Showing posts with label تعارف. Show all posts
Showing posts with label تعارف. Show all posts

Saturday, 27 September 2014

تعارف


DOWNLOAD               
تعارف

ادارہ ''کاروانِ حق''اپنے تمام قارئین کا تہہ دل سے شکریہ اداکرتا ہے اور خوش آمدید کہتا ہے

"کاروان حق" جامعہ حقانیہ کے طلباء کرام کا ماہنامہ جداریہ ہے جس کے ذریعے طلباء جامعہ اپنی  قلمی وادبی صلاحتیوں کو  اجاگر کرتے ہیں یہ ماہنامہ اساتذہ کے زیر نگرانی شائع کیا جاتا ہے
 email: jamiahaqqani@gmail.com

ابتدائی کلمات

ابتدائی کلمات

از

شیخ الحدیث حضرتمولانا محمد انوارالحق حقانی صاحب حفظہ اللہ تعالیٰ
مرکزی نائب صدر وفاق المدارس العربیہ پاکستان
ونائب مہتمم جامعہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک

            عصر حاضر میں صحافت اشاعت دین کیلئے سب سے مؤثر ،اور مثبت ذریعہ ہے۔آج مسلم دنیا بالعموم اور ہمارے دینی مدارس بالخصوص اس فن میں کوئی خاص دلچسپی نہیں لے رہے …جس کی وجہ سے وہ آئے روز ہمارے مذہب اور دین پر تابڑ توڑ حملے کررہے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ صحافت کے ہتھیار کو استعمال کرکے ان بے دینوں کا علمی تعاقب کیا جائے اور مسلمانوں کی صحیح اور درست علمی وفکری رہنمائی کی جائے۔
            مقام شکر ہے کہ دارالعلوم حقانیہ کے چند ہونہار طلباء نے طلباء کرام میں علمی،ادبی اور صحافتی ذوق کو پروان چڑھانے کیلئے اردو اور عربی جداری جریدے کا اجراء کیا ہے ۔
            اللہ تعالیٰ ان کی محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول ومنظور فرمائیں۔

والسلام

(شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد انوارالحق صاحب مدظلہ)

اٹھ کر اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے

            مدیر کے قلم سے…

اٹھ کر اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے
      
      علماء انبیاء کے وارث ہیں ،وراثت کا حق اداکرتے ہوئے جب بھی دین کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ان کا مقابلہ کیا اور دین پر آنچ نہ آنے دی۔چنانچہ جب یونانی ملحدین فلسفہ کے زور سے اللہ کی ذات کا انکارکرنے لگے اور منطق کے انداز میں صغری، کبریٰ ملا کر وحدت الوجود کو رد کرنے لگے تو اس وقت کے علماء کرام نے منطق اور فلسفہ کی اشد ضرورت محسوس کی اور ان علوم کو ایسا ازبر کیا کہ وہ لوگ دھنگ رہ گئے ۔مختصر یہ کہ ان کے استدلات انہیں کے انداز میں ایسے رد کردیئے کہ دل داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتا اور اسلامی عقائد پر آنچ نہ آنے دی۔
            موجودہ دور کا اگر گہری نظر سے مطالعہ کیا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ اہل باطل مختلف طریقوں سے دین اسلام پر حملہ آورہورہے ہیں ۔اور مختلف زاویوں سے ان کو کھوکھلاکرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔جس میں سب سے ذیادہ طاقتور میڈیا کا میدان ہے ۔ میڈیاکامہار یہود ونصاریٰ اور ان کے ایجنٹوں کے پاس ہے۔ یہ مسلمانوں کے اندر خلفشار پیدا کرنے ،ان پر اپنا شکنجہ مضبوط کرنے اوران کو اپنا غلام بنانے کابہت ہی آسان راستہ ہے،چنانچہ جب بھی طاعوتی قوتیں کوئی اپنا ٹوٹکاازمانے کا تجربہ کرتی ہیںتو اول میڈیا کو رائے عامہ ہموار کرنے کیلئے بروئے کار لاتی ہیں ۔ یہ لاٹھی کی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔چنانچہ جس کی لاٹھی اس کی ہی بھینس ہوتی ہے۔
            میڈیا کی ایک شاخ تحریر وتصنیف بھی ہے۔جس کو پرنٹ میڈیا کے نام سے جانا جاتاہے یہ بھی اسلام کے خلاف سازشوں میں کسی سے پیچھے نہیں ہے یہ بھی اھل باطل کے نظر کرم پر ہی چل رہا ہے۔اور جو لوگ اس میدان میںمصروف عمل ہے اکثر یت ان میں ایسے ہیں ۔ جن کے قلموں کی  سیاھی اغیار فراھم کررہے ہیں اس میدان میں بھی اھل باطل کا راج ہے اور آئے روز اسلام پر تابڑ توڑ حملے کررہے ہیں۔
            اب ہمار االمیہ یہ ہے کہ باطل کے مقابلے میں ہر میدان میں ہمارے علماء کرام پیش پیش نظر آینگے لیکن تحریر و تصنیف ،پرنٹ اور الیکٹر انک میڈیا میں آٹے میں نمک کے برابر بھی آپ کو نہیں ملیںگے۔اس میں جتنا زیادہ اہل باطل کا عمل ہے اتنا ہی کم ہمار اردعمل ہے کیونکہ وہاں دیندار طبقہ موجو د نہیں ۔ براتو  برا ہے لیکن اگر علمائے کرام کوئی اچھا کام بھی سر انجام دے تو اس کو گول مول کرکے ایسے انداز میں پیش کرتے ہیں کہ بد سے بدتر ین بنادیتے ہیں ۔ وجہ یہ ہے کہ وہاں مستشرقین اور یہود ونصریٰ نے ٹھیکے جمارکھے ہیں جن کو داڑھی ،پگڑ ی اور مدارس مزاق نظر آرہے ہیں ۔چنانچہ ان ہی لوگوں نے دینی طبقے کو دہشتگردکے لبادے میں پیش کیا اور جو بھی اسلام کا نام لیتاہے ان کو انتہا پسند کا جامہ پہنایا ۔او رکسی ایک دن بھی میڈیا پر آپ کو ایسی خبر نہیںملی گی جو دینی طبقے کیلئے حو صلہ بخش ہو بلکہ ان کو بد نام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ہیں ۔
            اگر ہم نے ابھی بھی اس خلا کو پورانہیں کیا ۔اور ماضی کے تلخیوں سے سبق حاصل نہیں کیا ۔اور خارش کے مریض کی طرح ان سے کنارہ کش رہے تو کچھ دور نہیں کہ اپنے ہی لوگ ہمیں چھوڑ جائینگے اسلئے ہمیں چاہیے کہ جدید تقاضوں کو سمجھے اور ان کے مطابق اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر یہود و نصاریٰ اور ان کے ایجنٹو ں کی سازشوں سے اپنی تہذیب وتمدن کا دفاع کریں۔تو جس طرح جامعہ حقانیہ دین کے شعبوں میں مصروف عمل ہے اسی طرح تحریر کے میدان میں بھی طلبہ کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کیلئے ماہنامہ کاروان حق کا انتظام کیا ہے ۔لہذا طلبہ کرام سے درخواست کی جاتی ہے۔کہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر اپنے مضامین سے کاروان حق کو رونق بخشیں۔


اٹھ کر اب بزم جھان کا اور ہی انداز ہے             مشرق اور مغرب میں تیرے ہی دور کا انمازہے۔